اردوئے معلیٰ

Search

عشق کا گر مرید ہو جائے

علم ، خواجہ فرید ہو جائے

 

آگہی کے نگار خانے میں

روشنی کچھ مزید ہو جائے

 

پھر دوکانیں سجی ہیں زخموں کی

آؤ پھر کچھ خرید ہو جائے

 

دل کی جنت کو پھونکنے والے

تو جہنم رسید ہو جائے

 

کیا جیئیں اہلِ حق وہاں کہ جہاں

لمحہ لمحہ یزید ہو جائے

 

رمزِ لاتقنطو کا متوالا

کس طرح ناامید ہو جائے

 

وہ خطا کر جو نازؔ تیرے لیے

رحمتوں کی رسید ہو جائے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ