عشق

پیکرِ خاک میں تاثیرِ شرر دیتا ہے

آتشِ درد میں جلنے کا ثمر دیتا ہے

 

اک ذرا گردشِ ایّام میں کرتا ہے اسیر

دسترس میں نئے پھر شام و سحر دیتا ہے

 

پہلے رکھتا ہے یہ آنکھوں میں شب تیرہ و تار

دستِ امکان میں پھر شمس و قمر دیتا ہے

 

دل پہ کرتا ہے یہ تصویر جمالِ ہستی

پھر مٹا کر اُسے اک رنگِ دگر دیتا ہے

 

جذب صادق ہو تو کرتا ہے مقدر منزل

کارِ بے نام کو عنوانِ ظفر دیتا ہے

 

دور جائیں تو بلاتا ہے یہ اپنی جانب

لوٹ کر آئیں تو پھر اذنِ سفر دیتا ہے

 

اُس میں قید در و دیوار نہیں رکھتا عشق

اپنے آشفتہ مزاجوں کو جو گھر دیتا ہے

 

یہ کرشمہ ہے عجب عشق تضاد آور کا

پھول سے جسم کو پتھر کا جگر دیتا ہے

 

لمس پارس تو نہیں بنتا، مگر یہ سچ ہے

ڈھونڈنے والوں کو مٹی میں گہر دیتا ہے

 

تابِ گویائی چرا لیتا ہے ان ہونٹوں کی

عشقِ پرکار جب آنکھوں کو نظر دیتا ہے

 

قلبِ فنکار کو دیتا ہے یہ روحِ احساس

پھر اسے جرأتِ اظہار ہنر دیتا ہے

 

آؤ چلتے ہیں ذرا بزم سخن میں اسکی

لوگ کہتے ہیں وہ لفظوں کو اثر دیتا ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

بولوں تو ساری دنیا اُسے جان جائے گی
وہ کلاہِ کج، وہ قبائے زر، سبھی کچھ اُتار چلا گیا
جنگ اندھیرے سے بادِ برہم تک
نشانِ منزلِ من مجھ میں جلوہ گر ہے تو
سب کاروبار نقد و نظر چھوڑنا پڑا
اک بادباں شکستہ طغیانیوں میں دیکھا
ذرا سا بچ کے چلو کاٹتا ہے، کُتّا ہے
تُم
ہم لوگ
محسنہ