اردوئے معلیٰ

عطا حضور مجھے یہ سرور ہو جائے

کہ خواب میں مجھے دیدارِ نور ہو جائے

 

مزہ تڑپ میں ہے یا پھر قرار پانے میں

مدینہ جا کے یہ الجھن بھی دور ہو جائے

 

سخن لکھوں تو ہو تعریف آپ کی اس میں

درود میرا وظیفہ حضور ہو جائے

 

میں نعت پڑھ لوں جو روضے کے سامنے اک بار

تو پرسکون دلِ نا صبور ہو جائے

 

اگر لکھے تو مدح آپ کی لکھے ہر دم

مرے قلم کو عطا یہ شعور ہو جائے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات