عطا حضورؐ مجھے یہ سرور ہو جائے

عطا حضورؐ مجھے یہ سرور ہو جائے

کہ خواب میں مجھے دیدارِ نور ہو جائے

 

مزہ تڑپ میں ہے یا پھر قرار پانے میں

مدینہ جا کے یہ الجھن بھی دور ہو جائے

 

سخن لکھوں تو ہو تعریف آپؐ کی اس میں

درود میرا وظیفہ حضورؐ ہو جائے

 

میں نعت پڑھ لوں جو روضے کے سامنے اک بار

تو پرسکون دلِ نا صبور ہو جائے

 

اگر لکھے تو مدح آپؐ کی لکھے ہر دم

مرے قلم کو عطا یہ شعور ہو جائے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نعت تب ہوتی ہے جب دل پہ ہو تنزیل کوئی
جس جگہ بے بال و پر جبریل سا شہپر ہوا​
لیے رخ پہ نوری نقاب آگئے ہیں
مہر ھدی ہے چہرہ گلگوں حضورؐ کا
بدرِ حرا طلوع ہوا ظلمتوں کے بیچ
حَیَّ علٰی خَیر العَمَل
اے کاش کبھی سارے جھمیلوں سے نمٹ کے
تجھے مِل گئی اِک خدائی حلیمہ
لمعۂ عشقِ رسول ، عام ہے اَرزاں نہیں
نہیں شعر و سخن میں گو مجھے دعوائے مشاقی

اشتہارات