عطا کا مال و زر دامن میں بھرکر ناز کرتا ہے

عطا کا مال و زر دامن میں بھرکر ناز کرتا ہے

تری دہلیز پر آکر گدا گر ناز کرتا ہے

 

ہر اک غم کا مداوا ہے ترا غم اے مرے آقا

جو مل جائے ترا غم ، قلبِ مضطر ناز کرتا ہے

 

مدینے کی طرف رخ کر لیا پرواز کا میں نے

مری پرواز پر اب میرا شہپر ناز کرتا ہے

 

اندھیرے بھول کر بھی اس طرف کا رخ نہیں کرتے

مدینے کا اجالا اپنے گھر پر ناز کرتا ہے

 

ہوا ہے برکتوں والی فضا ہے رحمتوں والی

نبی کے شہر پر جنت کا منظر ناز کرتا ہے

 

احد ہو بدر ہو احزاب ہو یا جنگ خیبر ہو

قیادت پر نبی کی ان کا لشکر ناز کرتا ہے

 

زمانے بھر کے سنگِ در سلامی پیش کرتے ہیں

نبی کے در پہ خود اس کا مقدر ناز کرتا ہے

 

مرے سینے کو ان قدموں کی چاہت ہے مرے مولا

جنہیں بانہوں میں بھرکے عرشِ اکبر ناز کرتا ہے

 

رسولِ پاک کی یادیں ضیا پاشی کو آتی ہیں

مرا دل اپنی اس عظمت پہ اکثر ناز کرتا ہے

 

سرِ محشر رسولِ پاک کی زلفوں کے سائے پر

سیہ کارانِ امت کا مقدر ناز کرتا ہے

 

نبی کے قلزمِ رحمت کے اک قطرے سے ہے کمتر

عبث ہی اپنی وسعت پر سمندر ناز کرتا ہے

 

اسی کو جانتا ہے آخرت کا اپنی سرمایہ

علی والوں سے نسبت پر مرا گھر ناز کرتا ہے

 

جسے اے نورؔ خاکِ کوچۂ سرکار مل جائے

اسی پر خاندانِ ماہ و اختر ناز کرتا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

حشر میں مجھ کو بس اتنا آسرا درکار ہے
شکستہ حال اپنے دل کو سمجھانے کہاں جاتے
رخ پہ رحمت کا جھومر سجائے کملی والے کی محفل سجی ہے
طیبہ کی اُس ریت پہ پھولوں کے مسکن قربان
حقیقتِ مصطفی کہوں کیا کہ اضطراب اضطراب میں ہے
قلم خوشبو کا ہو اور اس سے دل پر روشنی لکھوں
وہ جو شبنم کی پوشاک پہنے ہوئے
میں پہلے آبِ زم زم سے قلم تطہیر کرتا ہوں​
گل شاہ بحر و بر کا اک ادنیٰ غلام ہے
نہیں ہے ارض وسما میں کوئی شریک خدا

اشتہارات