اردوئے معلیٰ

Search

عطا ہوئے ہیں رفیع جذبے

حضور کے ہیں مطیع جذبے

 

نظر جھکائے کھڑے ہوئے ہیں

درِ نبی پر جمیع جذبے

 

ملا ہے اعزازِ نعت جب سے

ہوئے ہیں تب سے وسیع جذبے

 

قدومِ سرور میں سر خمیدہ

عقیدتوں کے وقیع جذبے

 

پہنچ گئے ایک پل میں بطحا

محبتوں کے سریع جذبے

 

خدا سے مانگا ہے عشقِ سرور

وہ سن رہا ہے سمیع، جذبے

 

وہی ہیں اشفاقؔ خوش مقدر

ملے ہیں جن کو بدیع جذبے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ