اردوئے معلیٰ

عظمتیں کرنے سلام آتی ہیں شیدائی کو

کون سمجھا مرے آقا تری آقائی کو

 

لوح محفوظ بھی پڑھتا ہے ترا دیوانہ

کام میں لاتا ہے جب قوت بینائی کو

 

کنج یاد شہ کونین ہے اب میرا جہاں

کب کا میں چھوڑ چکا انجمن آرائی کو

 

مجھ کو سرکار کی چوکھٹ پہ پڑا رہنے دو

کیا کروں گا میں بھلا مسند دارائی کو

 

دن میں سورج تو سر شام سے مہتاب فلک

دیکھتا رہتا ہے سرکار کی انگنائی کو

 

عشق سرکار کے ہمراہ جو میدان میں جائے

غیر ممکن ہے کہ اپنائے وہ پسپائی کو

 

سوئے طیبہ ابھی پہلا ہی قدم رکھا ہے

رحمتیں آنے لگیں میری پذیرائی کو

 

سیرت سرور دیں پیش نظر ہو جس کے

ہاتھ سے جانے نہیں دیتا شکیبائی کو

 

میں نے خاک در سرکار جو پھانکی یاور

رب نے دوڑا دیا رگ رگ میں توانائي کو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات