علاج کلفتِ ہر دل فگار تو نے کیا

علاج کلفتِ ہر دل فگار تو نے کیا

گرے ہووں سے ، یتیموں سے پیار تو نے کیا

 

عطا کی تو نے فقیروں کو بھی جہانگیری

جو رہ نشیں تھے انہیں تاجدار تو نے کیا

 

سنائی دشمنِ جاں کو نوید "​لا تثریب”​

جو کر سکا نہ کوئی بار بار تو نے کیا

 

عطا کی دیدہء بے نور دل کو بینائی

حریم تیرہ ء دل نور بار تو نے کیا

 

جو کنز مخفی کی صورت رہا ہمیشہ سے

وہ رازِ حسنِ ازل آشکار تو نے کیا

 

اے یاد مصطفوی ! تجھ پہ ہوں ہزاروں سلام

ہر اک سرشک میں پیدا نکھار تو نے کیا

 

کھلے ہوئے ہیں ہر اک سمت نعت کے غنچے

میرا حدیقہء دل پُر بہار تو نے کیا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ذکر احمد کبھی تم ہونٹوں پہ لاؤ تو سہی
" زہے نصیب ، میں سرکار کے دیار میں ہوں "
ان کو آتا ہے رب العلی کا سلام
محشر میں دی فرشتوں نے داور کو یہ خبر
کلام حق کی وضاحت حدیث ختم رسلؐ!
رحمت کے سحر رنگ نظارے ہیں ہزاروں
جو تیرے کوچہ میں بستر لگائے بیٹھے ہیں
کملی والے میں قرباں تری شان پر
مجھ کو تنہائی میں سرکارؐ بہت یاد آئے
آنکھوں نے شہر نور کے منظر لیے سمیٹ