عمر بھر بس یہ وطیرہ ہے بنائے رکھا

عمر بھر بس یہ وطیرہ ہے بنائے رکھا

راہِ طیبہ پہ ان آنکھوں کو بچھائے رکھا

 

حسنِ اخلاق سے، بے شبہ، مِرے آقا نے

دشمن و دوست کو گرویدہ بنائے رکھا

 

ان کے دامن سے جڑے ہیں تو کنارے پہ لگے

یعنی آقا نے ہمیں پار لگائے رکھا

 

دنیا والوں نے بجھانے کی بڑی کوشش کی

ان کی رحمت نے دیا میرا جلائے رکھا

 

آپ کیا آئے مرے خواب میں اِک بار کہ پھر

عمر بھر آنکھ میں وہ خواب بسائے رکھا

 

گلشنِ آس میں دیدار کا اک پھول کھلا

شاخِ امید پہ پھر اس کو کھلائے رکھا

 

ذکرِ محبوبِ خدا سے رکھا روشن گھر کو

اور یادوں سے درِ دل ہے سجائے رکھا

 

آسرا کوئی نہ تھا اُن کے سوا جب تنوؔیر

سو امیدوں کو انہیں سے ہے لگائے رکھا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ