اردوئے معلیٰ

عہدِ وفا

تم مجھ کو بھلا دو ، جانے دو

ہر وقت کی باتیں ختم ہوئیں

وہ لطف کی راتیں ختم ہوئیں

جیسے برساتیں ختم ہوئیں

رُت آتی جاتی رہتی ہے

یوں وقت کی دھارا بہتی ہے

آخر دنیا دکھ سہتی ہے

مجھکو بھی یونہی غم کھانے دو

تم مجھ کو بھلا دو ، جانے دو

تم دور رہو ، مجبور ہوں میں

تم شاد رہو ، رنجور ہوں میں

دل کے زخموں سے چُور ہوں میں

روتے کو ہنسایا تھا تم نے

غم میرا بھلایا تھا تم نے

جلتی کو بجھایا تھا تم نے

پھر جلتا ہوں ، جل جانے دو

تم مجھ کو بھلا دو ، جانے دو

جب آنکھ ملائی تھی تم نے

اک آس بندھائی تھی تم نے

بگڑی سی بنائی تھی تم نے

اب تم نے نظر مجھ سے پھیری

یہ میری خطا ، قسمت میری

کہہ دو کہ نہیں ہوں میں تیری

ہاں عہدِ وفا کو بھلانے دو

تم مجھ کو بھلا دو ، جانے دو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ