اردوئے معلیٰ

Search
آج کل ”کلک ماسٹر “ دورہے ۔جہاں آپ کا ایک سکرین شاٹ، ایک شیئر، ایک میسیج کلک، دوسرے کو باآسانی برہنہ کرسکتا ہے ۔وقت کے ساتھ ساتھ ایجادات نے زندگی کو سہل تو بنادیا ہے ۔وہیں فتنہ طراز آلات نے شیطان کے لیے سہل شکار بنادیا ہے۔
——
کَم فَقر دا پردہ پوشی
میں طالب فقراں دا
میاں محمد بخش صاحب رحمۃ اللّٰه علیہ
——
اپنی نیکی کو چھپالینا آپ کی سوچ کا امتحان ہے اور دوسروں کے عیب چھپالینا آپ کے کردار کاامتحان ہے۔
دولوگوں کی گفتگو میں کسی تیسرے کو ڈسکس کرنا ،کسی کی مسلسل ٹوہ میں رہنا، اس کی ذاتی ذندگی کے بارے میں تجسس رکھنا،کمزوریاں تلاشنااور اپنی طاقت مسلط کرنے کے لیے ان کمزوریوں کو ہتھیار بناکر استعمال کرنا،تعلق ٹوٹ جانے پر اس کے عیبوں کا پرچار شروع کردینا دوسروں کو اس سےبدگمان کرنے کی کوششوں میں لگے رہنا یہ کسی مومن مسلمان کے اوصاف نہیں ہیں۔ یہ رحمانیت نہیں شیطانیت ہے جو باطنی انتشار کا سبب ہے۔
مومن کے لیے تو دوسرے کامال ،عزت حرام ہے مومن دوسروں کی عزت کا محافظ ہوتا ہے ۔
ہمارے ظرف کا اصل امتحان تو تعلق ٹوٹ جانے کے بعد شروع ہوتا ہے ۔تعلق ٹوٹ گیا بس اب تالے لگالو
جو تالے نہیں لگاسکتا اسے چابی نہیں دی جاتی ہے جیسا کہ تصوف میں ایک سبق پڑھایا جاتا ہے اکثر ”جو راز نہیں رکھتا اسے راز نہیں دیا جاتا ۔“
کونسا راز
”انسان کاراز“۔۔۔۔۔!
اَلاِنسَانُ سِرّی واَنَا سِرّہ
(انسان میرا راز ھے اور میں انسان کا راز ھوں)
(حدیثِ قُدسی از رسالةُ الغوثیہ)
——
خُدا ملدے نا مسجد وِچ نا مندر وِچ نا گِرجے وِچ۔
خُدا تاں ہک بُجھارت ہے!
جے بُجھ وِیسیں تاں پُج ویسیں۔
شاکؔر شجاع آبادی
——
عیب پوشی کاحکم قرآن میں ”لاتجسسو“ کہہ کردیاگیا ہے ۔
——
یہ بھی پڑھیں : صحافی اور شاعر راج نرائن راز کا یوم پیدائش
——
سارے جسم کو چھوڑ کر زخم پر بیٹھنا مکھی کی صفت ہے مکھی نا بنیں انسان بنیں خود کو پہچانیں وہی نظر اپنے عیبوں پر رکھیں ۔
خدا سے ملنے کے لیے اپنی عقل ،اپنی زبان اپنے خیالات پر” لا“کے تالے لگادیں ۔
اپنی ذات پر پڑے نفسانیت کے دنیا پرستی کے پردے ہٹاکر اشرف مخلوقات بننے کیلئے خود میں خدا کی ستاری اور پردہ داری کی صفت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
عیبوب کی ٹوہ نے فرشتے کو ابلیس بنادیا اس کی نظر حضرت آدم علیہ السلام کے خاکی ہونے پر ہی ٹکی تھی ذات تک نا پہنچ سکی
جس کی وجہ سے تکبر میں مبتلاہوگیا
اور راندہ درگاہ بن گیا۔ انسان کو اسی راز کو پانے کے لیے، معرفت ذات باری تعالی کے لیے پیداکیاہے ۔
لوگ آپ کے عیبوں کی ٹوہ میں ہیں، آپ کو گرارہے ہیں آپ کے پیاروں کو آپ سے بدگمان کردیا گیا،آپ کو بدنام کردیاگیا ہے اپنا آپ کسی کانٹے کی طرح چھبنے لگاہے تو مایوس نا ہو،خود کو دنیا کی نظر سے نادیکھیں، معاملہ رب کے سپرد کرکے کسی پھول کی پناہ میں آجائیں ۔
وہ پھول جو خدا مزاج ہوتے ہیں جوذندگی کی خزاؤں سے نکال کر نصیب کو گلستاں کی طرح باغ وبہار کردیتے ہیں۔انسانیت کی ،اخلاق کی خوشبو پھیلانے والا وہ پھول ”اللہ کاکامل ولی“ ہے۔ جس کی صحبت میں گزرے لمحات کی ایک گھڑی ہزار سال کی عبادت سے بہتر ہے ۔
اللہ والے روحانی استاد ہیں جو ہمیں نفسانی ،شیطانی آلائشوں سے پاک کرکے ،ہمارا تزکیہ کرکے ہمیں اللہ کی پہچان کرواتے ہیں۔
اللہ کے ولی لجپال ہوتے ہیں ،جس سے لگالیتے ہیں اسے اپنے کرم کی ٹھنڈی چھاؤں میں چھپالیتے ہیں۔
——
عیب میرے پر پَلّا دیندا ، ہنر کریندا ظاہر
جدوں کرم دا واڑا کردا کوئی نہ رہندا باہر
حضرت میاں محمد بخش رحمتہ اللہ علیہ
——
اللّٰه تعالیٰ اپنے کرم سے میرے عیبوں کی پردہ پوشی کرتا ہے اور میری خوبیوں کو ظاہر فرماتا ہے وہ جب اپنے کرم پر آتا ہے تو کوئی بھی اس کے کرم سے باہر نہیں رہتا وہ سب پر یکساں کرم فرماتا ہے۔
اللہ ہمارے عیبوں کو دنیا وآخرت میں چھپاۓ رکھے اور ہماری گزشتہ خطائیں معاف کرے اور ہمیں پردہ پوشی کی توفیق دے آمین!
اللھم استرعوراتناوامن روعتنا
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ