اردوئے معلیٰ

Search

عید پھیکی لگ رھی ھے، عشق کی تاثیر بھیج

آ گلے مِل یا لباسِ عید میں تصویر بهیج

 

تیری خُوشبو اور کھنَک مَیں خط سے کرلُوں گا کشید

چُوڑیوں والے حنائی ہاتھ کی تحریر بھیج

 

دیکھ کر ویران گلیاں خوف آتا ھے مُجھے

اے خُدا ! کوئی گداگر یا کوئی رہگیر بھیج

 

میری آنکھوں کو نہ دے آدھی ادھوری بخشِشیں

خواب واپس چھین لے یا خواب کی تعبیر بھیج

 

جاں لبوں پر آگئی ھے آنسُوؤں کے قحط سے

آنکھ بُھوکی مر رھی ھے، غم کے شہدو شِیر بھیج

 

عید کا تُحفہ یہ کہہ کر اُس نے واپس کردیا

میرے پیروں کے لیے پائل نہیں، زنجیر بھیج

 

تیری لکّھی قید سے باھر نکلنا ھے مُجھے

کاتبِ تقدیر ! ایسا کر، کوئی تدبیر بھیج

 

دُوسرے مصرعے کے گہرے راز کو فارس نہ کھول

اس غزل کو چُپکے چُپکے وادئ کشمیر بھیج

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ