غزال آنکھوں کو ، مہ جبینوں کو دیکھتے ہیں

غزال آنکھوں کو ، مہ جبینوں کو دیکھتے ہیں

پرانے شاعر نئی زمینوں کو دیکھتے ہیں

 

تو علم ہوتا ہے سانپ بچھو پلے ہوئے تھے

اگر کبھی اپنی آستینوں کو دیکھتے ہیں

 

تمہارا چہرہ ، تمہارے رخسار و لب سلامت

کہ ہم تو حسرت سے ان خزینوں کو دیکھتے ہیں

 

بچھڑنے والے اداس رت میں کلینڈروں پر

گزشتہ سالوں ، دنوں ، مہینوں کو دیکھتے ہیں

 

ہمارا کیا ہے کہ ہم تو اجڑے ہوئے مسافر

تمہارے پاؤں سے روندے زینوں کو دیکھتے ہیں

 

کبھی یہ دیکھا تماشہ گاہوں کے کچھ مداری

عجیب دکھ سے تماش بینوں کو دیکھتے ہیں

 

پرانی تصویر ، ڈائری اور چند تحفے

بڑی اذیت سے روز تینوں کو دیکھتے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

منبروں اور مسجدوں سے پرے
تقریر میں کی اس نے ہجوِ مئے ناب آخر
وفاداریوں پر وفاداریاں ہیں
قربتِ یزداں کس کو ملی ہے اے شہِ شاہاں تم سے زیادہ
خالی اس آستاں سے نہ دریوزہ گر پھرے
طلسمِ شامِ خزاں نہ ٹوٹے گا دل کو یہ اعتبار سا ہے
بہ ہر پہلو مجھے آٹھوں پہر معلوم ہوتی ہے
شعر کہنا اختیاری فعل ہو تو ترک ہو
اِک تری یاد سے لڑی ہوں میں
جلا کے ایک دیا طاقچے میں چھوڑ آیا