اردوئے معلیٰ

غم چھایا رہتا ہے دن بھر آنکھوں پر

فارس! اُس کے نام کا دَم کر آنکھوں پر

 

جب دیکھو پلکیں جھپکاتا رہتا ہے

اِتنا بھی اِترایا مت کر آنکھوں پر

 

چلیے! آپ محبت کو جانے دیجے

ترس ہی کھا لیجے میری تر آنکھوں پر

 

کہیے تو جی لیں ، کہیے تو مر جائیں

صاحب ! آپ کی سب باتیں سر آنکھوں پر

 

آنسو بن کر عین اذانِ فجر کے وقت

اُترے گا غم کا پیغمبر آنکھوں پر

 

کوئی کافر ہوگا جو ایمان نہ لائے

اُس بُت پر اور اُس کی کافر آنکھوں پر

 

جاتے جاتے لے جاؤ بوسوں کے پھول

ہاتھوں پر ، لب پر ، ماتھے پر ، آنکھوں پر

 

آنکھوں کو مت غور سے دیکھا کر، پیارے

آنکھیں رہ جاتی ہیں اکثر آنکھوں پر

 

فارس شب بھر خون ٹپکتا رہتا ہے

چلتے ہیں خوابوں کے نشتر آنکھوں پر

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات