غم کو شکست دیں کہ شکستوں کا غم کریں

غم کو شکست دیں کہ شکستوں کا غم کریں

ہم بندگانِ عشق عجب مخمصے میں ہیں

 

آزاد کب ہوئے ہیں غلامانِ کم سخن

جو طوق تھے گلے میں سو اب بھی گلے میں ہیں

 

تم مل چکے ہو اہلِ ہوس کو، مگر یہ ہم

مصروف آج تک بھی تمہیں ڈھونڈنے میں ہیں

 

اک نقشِ آرزو کہ جھلکتا نہیں کہیں

یوں تو ہزار عکس ابھی آئینے میں ہیں

 

ہم لوگ سند باد نہیں ، گردشوں میں تھے

ساتوں سفر جنون کے اک دائرے میں ہیں

 

آسیب کھا چکا ہے جہاں دل کی دھڑکنیں

کردار داستان کے اس مرحلے میں ہیں

 

پیماں، بھرم ، غرور ، یقیں اور پھر اناء

گویا کہ ہم شکست کے اک سلسلے میں ہیں

 

وہ تو ترا بھلا ہو کہ ہم کو خبر ہوئی

ہم لوگ وہ نہیں ہیں کہ جو دیکھنے میں ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ