اردوئے معلیٰ

Search

فراقِ ہستیِ اقدس کا غم رُلا جاتا

وہ جب گزرتے درختوں کو صبر آ جاتا

 

مرے حضور ہیں رحمت وگرنہ طائف میں

پہاڑ شہر کے اوپر اُلٹ دیا جاتا

 

جو تھا وہ ابر کا پارہ وہ کاش میں ہوتا

تو چھاؤں چھاؤں ، شتربان دیکھتا جاتا

 

وہ جس مقام پہ نَعلَین آپ کے گئے ہیں

مجال کیا کہ وہاں کوئی دوسرا جاتا

 

ادب ہے اتنا کہ پابوسِ مصطفے کے لئے

نہیں ہے خواب کے اندر بھی ، فاصلہ جاتا

 

جو وقت مڑتا کبھی تھام کر مری انگلی

میں سوئے عرصۂِ سرکار بھاگتا جاتا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ