فراق و ہجر کا دورانیہ ہو مختصر، آقاؐ

فراق و ہجر کا دورانیہ ہو مختصر، آقاؐ

جمالِ دید کی نعمت ملے بارِ دگر، آقاؐ

 

مرا قلبِ تپاں جانِ حزیں ہے منتظر، آقاؐ

کریں آباد قلب و جاں کا یہ سونا نگر، آقاؐ

 

میں ہوں بے خانماں، خانہ بدوش و در بہ در، آقاؐ

عطا سرکارؐ کے قدموں میں ہو بے گھر کو گھر، آقاؐ

 

میں ڈھونڈوں گا کوئی قاصد نہ کوئی نامہ بر، آقاؐ

مرے احوال سے ہیں باخبر، خیر البشر، آقاؐ

 

محبت آپؐ سے ملتی رہے یوں عمر بھر، آقاؐ

سرور و عشق و مستی بھی فزوں تر، بیشتر، آقاؐ

 

اشاروں پر ہیں چلتے آپؐ کے شمس و قمر، آقاؐ

ہیں کرتے ہم کلامی آپؐ سے سنگ و حجر، آقاؐ

 

رہے جاری و ساری جانبِ طیبہ سفر، آقاؐ

عطا کر دیں ظفرؔ بے بال و پر کو بال و پر، آقاؐ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

خدا کے فضل سے ہر دم مرا دامن بھرا ہے
ہوا حمد خدا میں دل جو مصروف رقم میرا
جو انسانوں کا ناحق خوں بہائے
کسی اور کے خدا سے نہ غرض نہ واسطہ ہے
خدا واحد، خدا ممتاز و اعظم
یا نبی سلام علیک یا رسول سلام علیک
رسائی خلق کی رب تک نہ ہو گی
غمِ حیات سے گرچہ بہت فگار ہوں میں
جو دل ذکرِ خدا سے ہر گھڑی معمُور ہوتا ہے
محمد کے روضے پہ جا کر تو دیکھو

اشتہارات