اردوئے معلیٰ

Search

فرشتے حضوری میں پہنچا رہے ہیں

محمد پہ لاکھوں سلام آ رہے ہیں

 

ہوئے جو گرفتارِ آں زلفِ مشکیں

وہ آزاد اَز دامِ دنیا رہے ہیں

 

سب اپنی جگہ شاد کامِ تجلی

تجلی کچھ اس طور دکھلا رہے ہیں

 

فزوں تر ہے دربارِ طیبہ کی رونق

جو سَو اٹھ گئے تو ہزار آ رہے ہیں

 

مطاعِ زمانہ بنے اللہ اللہ

جو خدام ہمراہِ آقا رہے ہیں

 

پسِ مرگ پہلو میں ان کے وہ ساتھی

جو جیتے ہوئے بھی اکٹھا رہے ہیں

 

یتیموں غریبوں کا جو حق ہے واجب

وہ اہلِ تموُّل سے دلوا رہے ہیں

 

جو دنیا میں ان پر نہ ایمان لائے

وہی اب جہنم میں پچھتا رہے ہیں

 

ملے جامِ کوثر نبی سے عجب کیا

کہ ہم جامِ وحدت کے رسیا رہے ہیں

 

نہ جائے نظرؔ اب یہ ہے غیر ممکن

بلاوا مِلا ہے تو ہم جا رہے ہیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ