فروزاں فروزاں ضیائے مدینہ، ہے سب حسنِ عالم فدائے مدینہ

فروزاں فروزاں ضیائے مدینہ، ہے سب حسنِ عالم فدائے مدینہ

اس آفت زدہ شہرِ یثرب میں آقا، تمہی بن کے رحمت ہو آئے مدینہ

 

ترا شہرِ خوباں دعاؤں کا محور، دل و جاں ہوئے ہیں معطر،منور

لبوں پر سجی بس یہی التجا ہے ، رہے میرے دل میں ولائے مدینہ

 

حسیں سبز گنبد پہ نظریں جمائے زباں پر سلاموں کے گجرے سجائے

میں مسحور و بیخود ہوں صحنِ حرم میں، ہے پر نور کتنا لقائے مدینہ

 

کبھی شدتِ اضطرابِ الم ہے کبھی گرمئیِ شمسِ محشر میں دم ہے

سیاہ کار اور مغفرت کے سوالی، چلے آئے ہیں سر جھکائے مدینہ

 

ترے در پہ افسانۂ غم سنا کے ہوا دل کو حاصل سکوں تا ابد ہے

عجب بے خودی ہے عجب کیف و لذت، سکوں بخش آہ و بکائے مدینہ

 

سعادت حضوری کی سجدوں نے پائی دل و گوش مسحور ان کے سبب ہیں

اذانِ مدینہ، صلوٰۃ مدینہ، سکونِ مدینہ، دعائے مدینہ

 

سنہرے سنہرے حجابوں میں رحمت ہیں کونین کی عظمتیں جن کا صدقہ

فرشتے ہیں حاضریہاں سرخمیدہ، مقدس ہے کتنی فضائے مدینہ

 

کمالِ کرم اس پہ ہوگا تمھارا کہ آکر کوئی کاش مجھ سے یہ کہہ دے

بلاتے ہیں کونین کے شاہ تجھ کو، کہ ہر سال منظرؔ بھی آئے مدینہ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ