فصیل پر ہیں ہوا کی روشن چراغ جس کے

فصیل پر ہیں ہوا کی روشن چراغ جس کے
سیاہ راتوں میں جس نے روشن شجر کیے ہیں
وہ جس نے موجوں کو تیشہ اندازیاں سکھا کر
رقم چٹانوں پہ راز ہائے ہنر کیے ہیں
وہ جس کی رحمت نے دشت کے دشت
سبزۂ ُگل سے بھر دیے ہیں
وہ جس کی مدحت میں حرف و آواز گنگنائیں
خموشیاں جس کے گیت گائیں
وہ جس کے جلوے افق افق ہیں
وہ جس کی کرنیں شفق شفق ہیں
ازل سے پہلے
ابد سے آگے
اُسی کو ہر اختیار حاصل
اُسی کو عزّو وقار حاصل
وہ ایک مالک
اُسی کا سب ہے
وہ تو ربّ ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ