اردوئے معلیٰ

Search

 

فطرت حق کے اشارے دل بے تاب سمجھ

سر ہے سجدے میں تو سجدے کے بھی آداب سمجھ

 

وہ ہے معبود، تو بندہ ہے ذرا سوچ کبھی

اک اشارے پہ جو ٹکڑے ہوا مہتاب سمجھ

 

گر ہے خواہش کہ نظر آئیں مقدس جلوے

ایک خالق کے ہیں جتنے بھی وہ القاب سمجھ

 

دل! اگر تجھ میں نہیں خوف خدا، خوف ابد

دیکھتا تو ہے کوئی خواب، تو وہ خواب سمجھ

 

لکھ دے سجدے میں جبیں پر تو خدا واحد گل

زندگی دشت و خزاں میں بھی تو شاداب سمجھ

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ