اردوئے معلیٰ

فلک سے ہے ارفع زمینِ مدینہ

تو کیا ہوگی سوچو جبینِ مدینہ

 

بدن میرا خالی جہاں بھی رہا ہو

رہا دل ہمیشہ مکینِ مدینہ

 

قدم چومتا ہوں عقیدت سے ان کے

پلٹتے ہیں جب عازمینِ مدینہ

 

تڑپنے لگیں خواہشیں مثلِ بسمل

رکا قافلہ جب قرینِ مدینہ

 

کسی غیر کا مجھ پہ احسان کیوں ہو

رہا ہوں، رہوں گا رہینِ مدینہ

 

کوئی دل لبھائے یہ ممکن نہیں ہے

بسے ہیں نظر میں حسینِ مدینہ

 

بڑے خوش مقدر ہیں اشفاق احمد

وہ جاروب کش خادمینِ مدینہ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات