فلک سے ہے ارفع زمینِ مدینہ

فلک سے ہے ارفع زمینِ مدینہ

تو کیا ہوگی سوچو جبینِ مدینہ

 

بدن میرا خالی جہاں بھی رہا ہو

رہا دل ہمیشہ مکینِ مدینہ

 

قدم چومتا ہوں عقیدت سے ان کے

پلٹتے ہیں جب عازمینِ مدینہ

 

تڑپنے لگیں خواہشیں مثلِ بسمل

رکا قافلہ جب قرینِ مدینہ

 

کسی غیر کا مجھ پہ احسان کیوں ہو

رہا ہوں، رہوں گا رہینِ مدینہ

 

کوئی دل لبھائے یہ ممکن نہیں ہے

بسے ہیں نظر میں حسینِ مدینہ

 

بڑے خوش مقدر ہیں اشفاق احمد

وہ جاروب کش خادمینِ مدینہ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جب حسن تھا ان کا جلوہ نما انوار کا عالم کیا ہوگا
کس کی آمد ہے یہ کیسی چمن آرائی ہے
کلامِ احمدِ مرسل سمندر ہے لطافت کا
اے خدا شكر كہ اُن پر ہوئیں قرباں آنكھیں
ہستی پر میری مولا آقا کا رنگ چڑھا دے
روحِ دیں ہے عید میلادُالنبی
شب غم میں سحر بیدار کر دیں
شفیع الوریٰ() کو درودوں کا عطیہ​
مہکی ہے فضا گیسوئے محبوب عرب سے
ہیں سرپہ مرے احمد مشکل کشا کے ہاتھ

اشتہارات