فلک میں حدّ ِ نظر لا اِلہ الہ اللہ

فلک میں حدِّ نظر لا اِلہ الہ اللہ

نجوم و شمس و قمر لا اِلہ الہ اللہ

 

بقا کی راہ ہے معراج ہے یہ اس کے لیے

پڑھے جو شام و سحر لا الہ الہ اللہ

 

نظر کو چاہیے وُسعت مشاہدے کے لیے

جِدھر بھی دیکھو اُدھر لا اِلہ الہ اللہ

 

ہر ایک ذرّے سے اُس کا ہی نُور ہے ظاہر

جہانِ برگ و شجر لا اِلہ الہ اللہ

 

فریبِ حُسن کا منظر بھی صاف ہو جائے

زباں پہ آئے اگر لا اِلہ الہ اللہ

 

وزیر جلوہ یزداں دکھائی دیتا ہے

تمام حُسنِ نظر لا اِلہ الہ اللہ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نام بھی تیرا عقیدت سے لیے جاتا ہوں
جس دل میں نور عشق ہے ذات الہ کا
تجھی سے التجا ہے میرے اللہ
ترے کرم تری رحمت کا کیا حساب کروں
خدا ہے حامی و ناصِر ہمارا
خدایا میں نحیف و ناتواں کمزور انساں ہوں
سدا دِل میں خدا کی یاد رکھنا
کہوں حمدِ خدا میں کس زباں سے
ترے انوار دیکھوں یا خُدا مجھ کو نظر دے
خدا قائم ہے دائم جاوداں ہے