اردوئے معلیٰ

فہم و ادراک تھک گئے مولا

فہم و ادراک تھک گئے مولا

تو سمجھ سے اس قدر بالا

 

صرف چھ دن میں لفظ کُن کہہ کر

تو نے پیدا کیے ہیں ارض و سما

 

تیری قدرت کے شاہکارِ حسیں

پھول، برگِ حنا و موجِ صبا

 

بحر، دریا، ندی، پہاڑ، دھنک

گلستاں، کھیت، وادی و صحرا

 

بیج کو قوتِ نمو دے کر

شق کیا ارضِ سخت کا سینا

 

ساری دنیا کو کر دیا غرقاب

تیرا قہر و جلال ہے ایسا

 

رس و تبّع و ایکہ ، عاد و ثمود

سب کو تیرے عذاب نے گھیرا

 

سینۂ کوہ چیر کر تو نے

حاملہ اونٹنی کیا پیدا

 

سرفرازیِ اہلِ حق کے لیے

تیری قدرت سے پھٹ گیا دریا

 

امر سے اپنے ابنِ مریمؑ کو

کر کے ظاہر، شرف جہاں میں دیا

 

اپنے محبوب کی دعا سن کر

ماہتابِ حسیں دو ٹکڑے کیا

 

سر بلندی فقط اسی کو ملی

تیری عظمت کو جس نے پہچانا

 

تو جو چاہے تو سنگ پانی ہو

تیرے قبضے میں سب ہیں یا اللہ

 

التجا بس یہی ہے ساحل کی

اِس گنہگار پر کرم فرما

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ