اردوئے معلیٰ

فیضِ چــارہ گــر کہیٔے ، یا عنایتِ قاتل

ساری عُمر زخموں کو آنسوؤں سے دھوئے ہیں

ظُلمت کے دامن سے صبح نـو جنم لے گـی

زیست لیکے اُٹھیں گے زہر کھا کے سوئے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات