فیکون

فقط خلا تھا
نہیں ، خلا بھی کہیں نہیں تھا
عدم کدے میں نہ تھے زمان و مکاں کہیں بھی
عدم کدہ بھی کہیں نہیں تھا
نہ وقت تھا اور نہ رنگ و بُو تھے
نہ تخت و بالا نہ چار سُو تھے
وجود معدوم ، ہست کا ہر نشاں ندارد
نہ روح کی لَے ، نہ سانس کی دُھن
نہ جاں کی آہٹ ، نہ دل کی سُن گُن
!پھر اک آواز گُونج اُٹھی ، کُن

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سانولی
بارش بھری رات
سفرنامہٴ حج
وضاحت
وطنِ عزیز میں حکومت کی تبدیلی پر
سر بسر یار کی مرضی پہ فدا ہو جانا
معلُوم ھے جناب کا مطلب کچھ اَور ھے
پھر اُس کے بعد زمانے نے مجھ کو روند دیا
اگرچہ یہ چاند پر کسی آدمی کا پہلا قدم نہیں ھے
تُو حکم کر ، نہ جاؤں تو جو چور کی سزا

اشتہارات