قبائے عجز میں سہمے ہوئے سوال کے ساتھ

قبائے عجز میں سہمے ہوئے سوال کے ساتھ

حضور نعت ہوں لایا نئے خیال کے ساتھ

 

کچھ ایسے ہی مری ہستی میں نعت ہے، جیسے

چٹک اُٹھے کوئی غنچہ شکستہ ڈال کے ساتھ

 

متاعِ حرف و سخن میں کہاں وہ آب وہ تاب

جو اِذن ہو تو لکھوں نعت اب دھمال کے ساتھ

 

اسی لئے تو ہیں فطرت کے سب حوالے ُحسن

کہ ربط رکھتے ہیں وہ تجھ سے خوش خصال کے ساتھ

 

حروفِ شوق تو عاجز ہیں اور قاصِر بھی

سو اُس کی نعت ہو اُس کے ہی خدّ و خال کے ساتھ

 

نہیں زمانے، مَیں تیرا نہیں ذرا مقروض

مَیں جی رہا ہُوں سخی کے ہی اُس نوال کے ساتھ

 

اُسی کے اذن پہ موقوف ہے سخن مقصودؔ

یہ کام قال سے ممکن ہے اور نہ حال کے ساتھ

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سید و سرور محمد نورِ جاں
وہ سب انبیاء کے ہیں ٹھہرے امام
جس نے بھی بزمِ پاک سجائی حضور کی
علاجِ دیدہ پُر نم حضور کی رحمت
جہاں میں جو عزّ و جاہ چاہے
آئے رسولِ پاک تو منظر بدل گیا
دارالاماں یہی ہے حریمِ خدا کے بعد
خاک جب اس پیکرِ نوری کا مدفن ہو گئی
توفیقِ ثنا جو مل رہی ہے
شاہِ بطحا کا جس پر کرم ہوگیا