اردوئے معلیٰ

 

قدرت نے عطا کی مجھے توفیق ثنا کی

مرغوبِ قلم نعت ہے محبوبِ خدا کی

 

دل میں ہے تمنّا ترے نقشِ کفِ پا کی

خوش طالعی مل جائے مجھے غارِ حرا کی

 

والشّمس ترے عارضِ تاباں کا قصیدہ

واللیل، رباعی ہے تری زُلف رسا کی

 

ایوانِ تمدّن میں ترے رُخ کا اُجالا

تہذیب، تجلی ترے نقشِ کفِ پا کی

 

خود حق نے ترے خلق کی عظمت کا کیا ذکر

تفسیر ہے قرآن تری ایک ایک ادا کی

 

سرکار کی بخشش میں کمی آ نہیں سکتی

ہر چیز خدا نے انہیں کثرت سے عطا کی

 

سلطان بھی محتاجِ کرم ان کے گدا بھی

جھولی تہی رہتی نہیں سلطان وگدا کی

 

اک بار اسے بخش دیا اتنا سخی نے

پھر اور کسی در پہ نہ طارق نے صدا کی

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات