قرآن سے پاتے ہیں کیا خوب یہ دانائی

قرآن سے پاتے ہیں کیا خوب یہ دانائی

’’جآوٗکَ‘‘ پڑھا جب سے، عُشاق کی بن آئی

 

اقرار گناہوں کا کرتے ہوئے روتے ہیں

کہتے ہیں ’سیہ کاری‘ روضے پہ تو لے آئی!

 

دربارِ رسالت سے پاتے ہیں تسلی وہ

آتے ہیں یہاں جو بھی بخشش کے تمنائی!

 

ہوں عفو طلب عاصی، آقا بھی یہی چاہیں!

تن رَبّ کی طرف سے یوں ہوتی ہے پذیرائی

 

کِھل جاتے ہیں سب غنچے پھر مغفرتِ رَبّ کے

اللہ بھی کرتا ہے ایسی چمن آرائی!

 

کیا خوب عزیزؔ احسن، نسخہ یہ ملا تجھ کو

یوں تیری معافی کی صورت بھی نکل آئی!

 

 

نوٹ:بعد صلوٰۃ العشاء ’’نسخہ ہائے وفا‘‘ پڑھنے لگا۔ تو فیض احمد فیضؔ
کا شعری فیض پہنچا۔ وہ کہتے ہیں:
ہم سادہ ہی ایسے تھے کی یونہی پذیرائی
ہفتہ : ۱۶؍ ذیقعدہ ۱۴۲۹ھ…۱۵؍ نومبر ۲۰۰۸ء
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کس کی آمد ہے یہ کیسی چمن آرائی ہے
قافلے سارے مدینے کو چلے جاتے ہیں
یہ دنیا سمندر ، كنارا مدینہ
مصطفےٰ آپ ہیں مرتضٰے آپ ہیں
قدرتِ حق کا شہکارِ قدرت اک نظردیکھ لوں دور ہی سے
کب چھڑایا نہیں ہم کو غم سے کب مصیبت کو ٹالا نہیں ہے
ہوش و خرد سے کام لیا ہے
دھڑک رہا ہے محمدؐ ہمارے سینے میں
سنا ہے شب میں فرشتے اُتر کے دیکھتے ہیں
مجرمِ ہیبت زدہ جب فردِ عصیاں لے چلا