اردوئے معلیٰ

Search

قربان مقدر پہ ترے وادیٔ ایمن

گزرا ہے ترے سامنے سرکار کا بچپن

 

کیا شان کہ تُو مولد انور کی امیں ہے

معراج کی نسبت سے بھی ہے تُو ہی مُعَنوَن

 

وہ غارِ حرا، صحنِ حرم، جنّتِ مَعْلیٰ

جس سمت بھی جائیں وہی انوار کا مخزَن

 

فاران کی چوٹی سے ہُوا مہر ہویدا

تقدیر ہوئی حضرتِ انسان کی روشن

 

اِک صوت نے جیسے نئے امکان تراشے

تُو نُور کا مہبط ہُوئی اور خیر کا مسکن

 

پھر ہجر کے وہ تیرہ برس، تجھ پہ جو بیتے

بے صوت تاثر کے تھے وہ نالہ و شیون

 

اِک روز وہ پھر ناقہ سوار اپنے جلو میں

لے آیا ترے پاس نصیبوں کے نشیمن

 

رکھا ہے تری چھاتی پہ عظمت کا تفاخر

تو مرجعِ مخلوق ہے، تخلیق کا کنگن

 

تکتا ہُوں تجھے صدیوں کے ماقبل زمن میں

سیراب مجھے کرتا ہے اُس یاد کا دھووَن

 

حیراں ہُوں کہ کس طَور کھُلے عقدئہ حیرت

منقوش طلسمات سے پُر ہے ترا دامن

 

اے شہرِ عبادت! مری غُربت کی خبر لے

پتھر ترے گوہر ہیں تو مٹی تری کُندن

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ