قطرہ قطرہ لہو پلاتے ہوئے

قطرہ قطرہ لہو پلاتے ہوئے

میں مرا عشق کو بچاتے ہوئے

 

آنکھ آئینے میں گنوا آیا

تشنگی عکس کی بجھاتے ہوئے

 

ڈھلتے سائے میں ڈھل گئی آخر

دھوپ، سایہ مرا جلاتے ہوئے

 

تیری جانب رہا سفر میرا

راستہ اپنا خود بناتے ہوئے

 

غم کی قندیل بھی بجھا آئے

ہم ترا ظرف آزماتے ہوئے

 

ہاتھ اس کے بھی جل گئے ہوں گے

آشیانہ مرابچاتے ہوئے

 

کتنے امکان بن گئے قیصرؔ

ایک دیوار کو اٹھاتے ہوئے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ