اردوئے معلیٰ

Search

قطرہ قطرہ لہو پلاتے ہوئے

میں مرا عشق کو بچاتے ہوئے

 

آنکھ آئینے میں گنوا آیا

تشنگی عکس کی بجھاتے ہوئے

 

ڈھلتے سائے میں ڈھل گئی آخر

دھوپ، سایہ مرا جلاتے ہوئے

 

تیری جانب رہا سفر میرا

راستہ اپنا خود بناتے ہوئے

 

غم کی قندیل بھی بجھا آئے

ہم ترا ظرف آزماتے ہوئے

 

ہاتھ اس کے بھی جل گئے ہوں گے

آشیانہ مرابچاتے ہوئے

 

کتنے امکان بن گئے قیصرؔ

ایک دیوار کو اٹھاتے ہوئے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ