اردوئے معلیٰ

Search

قلب و جاں میں سمائے رہتے ہیں

وہ خیالوں پہ چھائے رہتے ہیں

 

آپ کی یاد بھی عبادت ہے

آپ سے لو لگائے رہتے ہیں

 

ایسے عُشاق ہیں جو مستی میں

دِل مدینہ بنائے رہتے ہیں

 

اُن تہی دامنوں پہ نظرِ کرم

جو جہاں کے ستائے رہتے ہیں

 

وہ جو اُن کے فقیر ہوتے ہیں

دھوپ میں اُن پہ سائے رہتے ہیں

 

جو فنا فی الرسول ہو جائیں

اپنی ہستی مٹائے رہتے ہیں

 

کتنے خوش بخت ہیں ظفرؔ وہ جو

آپ کے در پہ آئے رہتے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ