قلم ہاتھ میں میرے آیا اگر ہے

 

قلم ہاتھ میں میرے آیا اگر ہے

ثنا مصطفےٰ کی ہی پیشِ نظر ہے

 

ثنا مصطفےٰ کی جو پیشِ نظر ہے

قلم میں سیاہی نہیں آبِ زر ہے

 

اُسی کا ہے پرتو ، جہاں میں ، جدھر ہے

 

نہیں جانِ رحمت سے نُوری کوئی بھی

حبیبِ خُدا سا نہ کوئی بشر ہے

 

کیا ہر زمانے نے تسلیم اس کو

کہ بعد از خُدا بس وُہی معتبر ہے

 

میں ہوں اک غلامِ غلامانِ احمد

مرا فخر بس اک اسی بات پر ہے

 

مجھے نعت کہنے کا کب ہے سلیقہ

خصوصی کرم اُن کا مجھ عام پر ہے

 

یہ ہے مختصر سی مری نعت لیکن

حقیقت میں آقا کی یہ نامہ بر ہے

 

خُدا کا کرم اُس پہ لازم ہے دانش

بشر جو ثنا خوانِ خیرالبشر ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کالی کملی والے
نہیں ہے کام اب مجھ کو کسی سے
جانے کب اوج پہ قسمت کا ستارا ہوگا
حالِ دل کس کو سناوں آپ کے ہوتے ہوئے
ہر سانس ہجر شہ میں برچھی کی اک اَنی ہے
لکھوں مدح پاک میں آپ کی مری کیا مجال مرے نبی
اللہ نے پہنچایا سرکار کے قدموں میں
مرا کیف نغمۂ دل، مرا ذوق شاعرانہ​
مجھے عنایت، جو زندگی ہے اسی کا محور مرا نبیؐ ہے
جشن میلاد النبیؐ ہے صاحب قرآن کا

اشتہارات