اردوئے معلیٰ

قمر شہباز کا یوم وفات

آج ممتاز شاعر اور دانشور قمر شہباز کا یوم وفات ہے

قمر شہباز
(پیدائش: 13 اپریل 1938ء – وفات: 5 مئی 2009ء)
——
ممتاز دانشور، ادیب ، ڈرامہ نگار ، کہانی نگار اور شاعر قمر شہباز نے 13 اپریل 1938ء کو نواب شاہ میں محمد مقبول بگھیو کے گھر جنم لیا۔ ان کا نام قمر الدین بگھیو تھا لیکن انہوں نے اپنا تخلص قمر شہباز چُنا۔ نواب شاہ میں بنیادی تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے انیس سو باسٹھ میں انگریزی ادب میں ماسٹر کیا۔ یہ وہ دور تھا جب سندھی ادب زوال پذیر تھا اور بہت کم لوگ کہانیاں لکھا کرتے تھے۔
انہوں نے اپنی ملازمت کا آغاز ایس ایم سائنس کالج میں بطور لیکچرار کیا۔ اس دوران ان کا اندرون سندھ کئی شہروں میں تبادلہ ہوا۔ 1965ء سے 1972ء کے دوران انہوں نے ڈگری کالج کندھ کوٹ میں پرنسپل کے فرائض انجام دیئے بعدازاں وہ کمیشن کا امتحان پاس کرکے ایکسپورٹ پروموشن بیورو، گھی کارپوریشن آف پاکستان اور دیگر اداروں میں فرائض سرانجام دیتے رہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : خاور رضوی کا یومِ وفات
——
قمر شہباز نے کہانیاں، ریڈیو ڈرامے اور مزاحیہ خاکے تحریر کیے اور شاعری کے میدان میں بھی طبع آزمائی کی۔ ان کی تین کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ان کی کہانیوں میں سماجی حقیقت نگاری اور رومانس کا پہلو حاوی تھا جبکہ ڈراموں کا مرکز روز مرہ کی زندگی تھی۔
قمر شہباز کی شاعری کا مجموعی چندرھین تو دور،کہانیوں کا مجموعہ اٹون گھر، قمر شہباز جون کہانیوں اور ضمیر جو موت کے نام سے اور ڈراموں کا مجموعہ راچورن مہ لات کے نام سے اشاعت پذیر ہوئے تھے۔ حکومت پاکستان نے ان کی وفات کے بعد انہیں تمغہ امتیاز کے اعزاز سے سرفراز کیا تھا۔
زندگی کے آخری دنوں میں قمر شہباز ادبی دنیا سے کنارہ کش ہوگئے اور اپنی تحریروں کو اکٹھا کرنے میں مصروف تھے مگر زندگی نے انہیں اس کی مہلت نہ دی۔ اور 5 مئی 2009ء بروز منگل حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے کراچی میں ان کا انتقال ہو گیا۔وہ کراچی میں ڈیفنس سوسائٹی کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ