اردوئے معلیٰ

قُربِ حق مانگوں نجاتِ غمِ دنیا مانگوں

میں سمجھتا نہیں کیا کیا شہِ بطحا مانگوں

 

ڈوبتے دل کے لیے سایۂ محرابِ حرم

بجھتی آںکھوں کے لیے گنبدِ خضرا مانگوں

 

اپنے جینے کے لیے مانگوں میں صحنِ کعبہ

اپنے مرنے کے لیے خاکِ مدینہ مانگوں

 

عشق میں آپ کے بہتے رہیں میرے آنسو

میں وہ قطرہ ہوں کہ مانگوں بھی تو دریا مانگوں

 

میں کہ ہر لحظہ ہلاکت کی کڑی دھوپ میں ہوں

دامنِ رحمتِ کونین کا سایہ مانگوں

 

آپ کا چہرۂ انور متصور ہو جائے

ربِ کعبہ سے حضوری کا وہ سجدہ مانگوں

 

ہوں بصارت کے سرابوں میں پریشاں پرتوؔ

آپ سے نورِ ازل ، دیدۂ بینا مانگوں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات