لائقِ حمد و ثناء مالک بھی ہے معبود بھی

 

لائقِ حمد و ثناء مالک بھی ہے معبود بھی

تو ہی میرا مقتضا تو ہی مرا مقصود بھی

 

ساری تعریفیں تجھی کو زیب دیتی ہیں فقط

شان تیری بے شبہ برتر بھی لا محدود بھی

 

تیرا ہی محتاج ہے یہ زندگانی کا وجود

تیری ہی مرضی سے قائم نظمِ ہست و بود بھی

 

ہے نہاں پھر بھی ترے جلوے عیاں ہیں جا بجا

خالقِ کونین تو غائب بھی ہے موجود بھی

 

عفو کی امید ہے میری خطائیں بخش دے

تو ہی کر سکتا ہے بخشش، درگزر بھی، جود بھی

 

مجھ کو سیدھی راہ دے پھر استقامت کر عطا

تو ہی میرا رہنما تو ہی مرا مسجود بھی

 

حق ادا اشفاقؔ تیری حمد کا کیسے کرے

ہیں مرے نطق و ہنر عاجز بھی اور محدود بھی

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ