اردوئے معلیٰ

Search

لبوں سے اسمِ محمد جدا نہیں ہو گا

تو قلب وجاں پہ نزولِ بلا نہیں ہو گا

 

ہمارے ہوتے ہوئے اے عدوئے آلِ نبی

یہ مت سمجھنا کوئی معرکہ نہیں ہو گا

 

ہمارا آپ سے وعدہ ہے پیروکاری میں

کوئی بھی حشر تلک بے وفا نہیں ہو گا

 

کرم نوازی ہی ملت پہ وہ ہے جس کا ہم

کریں ادا بھی اگر حق ادا نہیں ہو گا

 

وہ جستجو سے خدا ڈھونڈ پائے گا کیسے

جو آنکھ ہوتے ہوئے بھی ترا نہیں ہو گا

 

برائے عشقِ نبی حرمتِ رسالت میں

کٹے گا سر بھی تو کوئی گلہ نہیں ہو گا

 

پڑی نہیں ہے جہاں بھیک تیرے کاسے میں

اٹھا نظر وہ درِ مصطفےٰ نہیں ہو گا

 

وہ جس نے چاند کو انگلی سے کر دیا دو نیم

کرے گا جب وہ اشارہ تو کیا نہیں ہو گا

 

درِ سخی سے بلاوا جب آئے گا عادل

تو سنگ و لب میں کوئی فاصلہ نہیں ہو گا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ