لبوں پہ جان ہے اک دم کا اور میہماں ہے

لبوں پہ جان ہے اک دم کا اور میہماں ہے

مریض عشق و محبت کا تیرے حال یہ ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اشک میں ڈھل کے آؤں گا
معاملہ تبھی چلتا اگر ہوا چلتی
پہنچے نہ وہاں تک یہ دعا مانگ رہا ہوں
اس شہرِبے مثال میں بس مجھ کو چھوڑ کر
جس کو دیکھو وو نور کا بقعہ
میں وہ شاغل ہوں کہ اہل صفا میرے مرید
ہماری زندگی تو مختصر سی اک کہانی تھی
میرے نال دی اکو میں سی
کٹ ہی گئی جدائی بھی کب یہ ہوا کہ مر گئے
پوچھا نہیں تھا ہم نے جوانی میں وقت کو

اشتہارات