لبوں پہ جس کے محمد کا نام رہتا ہے

 

لبوں پہ جس کے محمد کا نام رہتا ہے

وہ راہِ خُلد پہ محوِ خرام رہتا ہے

 

جو سَر جُھکائے محمد کے آستانے پر

زمانہ اس کا ہمیشہ غلام رہتا ہے

 

ہمیں نہ چھیڑ کہ وارفتگانِ بطحا ہیں

ہمیں تو شوقِ مدینہ مدام رہتا ہے

 

وہ دو جہاں کے اَمیں ہیں، انہی کے ہاتھوں میں

سپردِ کون و مکاں کا نظام رہتا ہے

 

جو غمگسار ہے نادار اور غریبوں کا

وہ قدُوسیوں میں بھی عالی مقام رہتا ہے

 

لگن ہے آلِ مدینہ کی جس کے سینے میں

وہ زندگی میں بہت شاد کام رہتا ہے

 

ہمیں ضرورتِ آبِ بقا نہیں ساغرؔ

ہمارے سامنے کوثر کا جام رہتا ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کالی کملی والے
نہیں ہے کام اب مجھ کو کسی سے
جانے کب اوج پہ قسمت کا ستارا ہوگا
حالِ دل کس کو سناوں آپ کے ہوتے ہوئے
ہر سانس ہجر شہ میں برچھی کی اک اَنی ہے
لکھوں مدح پاک میں آپ کی مری کیا مجال مرے نبی
اللہ نے پہنچایا سرکار کے قدموں میں
مرا کیف نغمۂ دل، مرا ذوق شاعرانہ​
مجھے عنایت، جو زندگی ہے اسی کا محور مرا نبیؐ ہے
جشن میلاد النبیؐ ہے صاحب قرآن کا

اشتہارات