اردوئے معلیٰ

لبِ سرکار سے گلشن میں پھولوں کا قرینہ ہے

جو شبنم تم سمجھتے ہو محمد کا پسینہ ہے

 

یہ جنت ہے مگر آداب اس کے کچھ الگ سے ہیں

جھکا نظریں ، ادب سے چل کہ یہ شہرِ مدینہ ہے

 

یہاں آواز رکھنا پست ، دل کا حال بھی اپنا

نگاہوں سے بیاں کرنا ادب کا یہ قرینہ ہے

 

اے دنیا خوب صورت تجھ کو مالک نے بنایا ہے

مگر جو سب سے پیارا ہے مدینہ وہ نگینہ ہے

 

منا خوشیاں عطا سرکار کی اس دن ولادت تھی

سجا گھر بار بھی ، دل بھی ، نبی کا یہ مہینہ ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات