لبِ سرکارؐ سے گلشن میں پھولوں کا قرینہ ہے

لبِ سرکارؐ سے گلشن میں پھولوں کا قرینہ ہے

جو شبنم تم سمجھتے ہو محمدؐ کا پسینہ ہے

 

یہ جنت ہے مگر آداب اس کے کچھ الگ سے ہیں

جھکا نظریں ، ادب سے چل کہ یہ شہرِ مدینہ ہے

 

یہاں آواز رکھنا پست ، دل کا حال بھی اپنا

نگاہوں سے بیاں کرنا ادب کا یہ قرینہ ہے

 

اے دنیا خوب صورت تجھ کو مالک نے بنایا ہے

مگر جو سب سے پیارا ہے مدینہ وہ نگینہ ہے

 

منا خوشیاں عطا سرکارؐ کی اس دن ولادت تھی

سجا گھر بار بھی ، دل بھی ، نبیؐ کا یہ مہینہ ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سناتے جائیں گے
نہیں ہے منگتا کوئی بھی ایسا کہ جس کا دامن بھرا نہیں ہے
واحسن منک لم ترقط عینی
شکر صد شکر کہ رہتی ہے مجھے یاد مدینہ
وہ کہ ہیں خیرالا نام
خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
خالق عطا ہو صدقہ محمد کے نام کا
واحد ہے تو تنہا ہے، تو ذات میں یکتا ہے
گدا کو دید کا شربت پلا دو یا رسول اللہ
جو بھی فدائی شہِ کون ومکاں ہوا

اشتہارات