لبِ عیسیٰ پہ بشارت کی جو مشعل تھا کبھی

لبِ عیسیٰ پہ بشارت کی جو مشعل تھا کبھی

عہدِ حاضر کے اندھیروں میں دکھائی دے گا

 

جس کے ہونٹوں سے ملے لفظ و معانی کو گُہر

” وہ مرے حرف کو اک تازہ نوائی دے گا ”

 

جب سوا نیزے پہ سورج کی انی چمکے گی

سایۂ دامنِ احمد ہی دکھائی دے گا

 

ہر صدا حشر کے میدان میں پتھر ہو گی

نغمۂ مُرسلِ آخر ہی سنائی دے گا

 

میرا دل اسمِ محمد سے سکوں کا مرکز

ذہنِ بے مایہ بھی اب اُس کی دہائی دے گا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ