اردوئے معلیٰ

Search

لحد میں وہ صورت دکھائی گئی ہے

مری سوئی قسمت جگائی گئی ہے

 

نہیں تھا کسی کو جو منظر پہ لانا

تو کیوں بزمِ عالم سجائی گئی ہے

 

صبا سے نہ کی جائے کیوں کر محبت

بہت اُن کے کوچے میں آئی گئی ہے

 

یہ کیا کم سند ہے مری مغفرت کی

ترے در سے میت اُٹھائی گئی ہے

 

وہاں تھی فدا مصر میں اک زلیخا

یہاں صدقے ساری خدائی گئی ہے

 

گنہگار اُمت پہ رحمت کی دولت

سرِحشر کھل کر لٹائی گئی ہے

 

شراب طہور اُن کے دست کرم سے

سرِ حوض کوثر پلائی گئی ہے

 

تہ خاک ہو شاد کیوں کر نہ اُمت

نبی کی زیارت کرائی گئی ہے

 

کسے تاب نظارہ جالی کے آگے

نظر احتراماً جھکائی گئی ہے

 

نصیر اب چلوقبرسے تم بھی اُٹھ کر

اُنہیں دیکھنے کو خدائی گئی ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ