لحد چاہوں مدینے میں خدا، تیری عبادت میں

لحد چاہوں مدینے میں خدا، تیری عبادت میں

امانت جان میں دے دوں مدینے کی زیارت میں

 

نہیں ہے خوف مرنے کا، تُو جانے کب سجے محشر

مدینہ گر نہیں ہو گا، رہوں گا کیسے راحت میں

 

جبیں بے چین ہے میری تڑپ دل میں تجھے دیکھوں

کروں سجدے بہ چشم نم، رہوں تیری عدالت میں

 

یہ دل کعبہ تو ہے مرا، نگاہوں میں مدینہ ہے

مری ہستی میں تُو مہکے، تیر چاہوں عنایت میں

 

مجھے توفیق دے ایسی، جبیں رکھ دوں جو کعبے میں

مجھے اُٹھنے نے دے سجدہ، کروں ایسی عبادت میں

 

مرے ماں باپ گل رشتے، شریک ہم سفر بیوی

بہن بھائی، مرے بچے، رہیں تیری حفاظت میں

 

سجے گا جب ترا محشر، میں آؤں گلؔ مدینے سے

ترے ہو روبرو سجدہ، محمدؐ کی امامت میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

میں تیرا فقیر ملنگ خدا
تو اعلیٰ ہے ارفع ہے کیا خوب ہے​
حمد و ثنا سے بھی کہیں اعلیٰ ہے تیری ذات
زمین و آسماں اُس کے، مکان و لامکاں اُس کے
خداوندِ مکان و لامکاں تُو
خدا کی حمد جس گھر میں بیاں ہو
خدا اعظم، عظیم، عظمت نشاں ہے
شکستہ دل مسلماں ہے، خدائے مہرباں امداد فرما
خدا کے زیرِ فرماں سب جہاں ہیں
بصیرت دے، بصارت دے، نظر دے

اشتہارات