اردوئے معلیٰ

Search

لفظوں کو چُنا اور تری نعت میں ڈھالا

یوں کارِ سخن بنتا گیا میرا حوالہ

 

ہر شے ہی گُہربار ہے اُس شہرِ ضیا کی

گنبد پہ بنا رہتا ہے اک نور کا ہالہ

 

اک کوچۂ حیرت ہے ترا شہرِ کرم بار

ہر موڑ ہے پُر نور ہر اک سمت اُجالا

 

بے حرف و ہنر سے ہوئے تب نعت کے اشعار

اک قطرۂ رحمت جو محمد نے اُچھالا

 

جو مانگنا ہے مانگ یہ دربارِ نعم ہے

سرکار نے اس در سے کسی کو نہیں ٹالا

 

واپس جو چلا شہرِ کراچی کو حرم سے

مشکل سے اُمڈتے ہوئے اشکوں کو سنبھالا

 

ہیں ان کے رخِ نور سے تاباں مہ و انجم

ہے اتنا حسیں جلوۂ حسنِ شہِ والا

 

وہ رشکِ نظر مکہ، تری جاے ولادت

کھاتا ہے قسم اس کی تبھی ربِّ تعالٰی

 

سرکار سرِ حشر جو منظر کو بُلائیں

تب زیبِ گلو ہو مرے نعتوں کی یہ مالا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ