لفظ لکھوں جو بھی ، ہو وہ نعت کا صلّیِ علیٰ

 

لفظ لکھوں جو بھی ، ہو وہ نعت کا صلّیِ علیٰ

تذکرہ ہو آپؐ کی ہی ذات کا صلّیِ علیٰ

 

راستے سارے مدینے کی طرف ہوں گامزن

دن کا ہو یا پھر سفر ہو رات کا صلّیِ علیٰ

 

کیا مقامِ مصطفی ہے ؟ جانتا ہے بس خدا

علم کس کو آپؐ کے درجات کا صلّیِ علیٰ

 

یہ سبھی مخلوق دنیا کی ازل سے آج تک

کھا رہی ہے آپؐ کے صدقات کا صلّیِ علیٰ

 

یہ اندھیرے سے جو چاروں سمت ہیں چھائے ہوئے

اِک دریچہ وا ہو امکانات کا صلّیِ علیٰ

 

آپؐ سے اتنی گذارش ہے ہماری مرتضیٰؔ

ختم ہو یہ سلسلہ آفات کا صلّیِ علیٰ

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کتنے حسیں ہیں گیسو و رُخسارِ مصطفیٰؐ
ہر موج ہوا زلف پریشانِ محمدؐ
اندھیری راتیں اجال رکھیں بہ اسمِ احمد
قصہء شقِّ قمر یاد آیا​
بہارِ باغِ عدن ہے آقا تری صباحت کے صدقے واری
گھڑی مڑی جی بھر آوندا اے ۔ پنجابی نعت
مدح کب تک شہِ کونین ! شنیدہ لکھوں
جو عرش کا چراغ تھا میں اس قدم کی دھول ہوں
درکار ہے حضور!! نہ دولت نہ عزَّ و جاہ
بے مثل ہے کونین میں سرکارؐ کا چہرہ

اشتہارات