اردوئے معلیٰ

لوگوں کے دُور کر کے غمِ روز گارِ عشق

لوگوں کے دُور کر کے غمِ روز گارِ عشق

میری طرف بھی آ ذرا پروردگارِ عشق

 

جب اپنی داستانِ محبت کو لکھ چکا

تو اِس کے بعد مر گیا ناول نگارِ عشق

 

محرم نہیں ہیں آپ تو مت دیکھئے مجھے

چُھونے کی اور بات ہے نقش و نگارِ عشق

 

ہم دو پہ آج شام یوں گُزرا غضب کا عِشق

الفاظ ڈھونڈتا رہا نامہ نگارِ عشق

 

اُس کی اپیل مُسترد، اُس کی سزا بحال

سمجھے جو اپنے آپ کو پرہیز گارِ عشق

 

پیدا کیا تو رزق بھی رب نے عطا کیا

رکھا نہ کوئی آج تک بے روزگارِ عشق

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ