لوگ کیا کہیں گے ؟

منظر
متوسط درجے کے ایک گھر میں بیوی عائشہ تخت پوش پہ بیٹھی سبزی کاٹ رہی ہے۔شوہر حامد قریبی کرسی پر بیٹھا اخبار پڑھنے میں منہمک ہے۔بارہ تیرہ سالہ بیٹا طحہٰ ہوم ورک کرنے میں مصروف ہے۔دو چھوٹی بچیاں حائقہ اور حمدہ گڑیوں سے کھیل رہی ہیں۔
عائشہ: میں نے کہا سنتے ہیں؟
حامد: (مسکراتے ہوئے)جی جی، اگر نہیں سنوں گا تب بھی آپ سنا کر رہیں گی۔
عائشہ: میں اس وقت مذاق کے موڈ میں نہیں ہوں۔
حامد: اللہ اکبر! آپ کے مذاق کی سنجیدگی کا بھی اندازہ ہے مجھے۔ کھری کھری کے علاوہ سب سنا دیجیے۔
عائشہ: کچھ سوچا ہے؟ رمضان شروع ہو چکا ہے اور گھر میں اس دفعہ کوئی تیاری ہی نہیں ہے۔
حامد: سوچنا کیا ہے؟ رمضان کے روزے رکھ تو رہے ہیں الحمدللہ
طحہ’: امی جان آج افطاری میں فروٹ چاٹ اور دہی بڑے بنائیے گا، اتنے دنوں سے شربت اور کھجور سے روزہ کھول رہا ہوں۔
عائشہ: سبحان اللہ! یہاں اتنے دنوں سے یہ سوچ سوچ کر دماغ دہی ہو گیا کہ دال روٹی کیسے چلے گی اور میاں صاحبزادے فروٹ چاٹ کو یاد فرما رہے ہیں۔
حامد: دفتر سے آتے ہوئے روزانہ فروٹ کے ریٹ پوچھتا ہوں اور پھر اپنے آنسو پونچھتا گھر آ جاتا ہوں۔
طحہ’ : میں دو دفعہ اپنے دوستوں کے ہاں افطاری کے لیے جا چکا ہوں،اب اگر ان کو نہ بلایا تو وہ لوگ کیا کہیں گے؟
عائشہ: تمہیں کس نے کہا تھا بھاگم بھاگ ان کے ہاں پہنچ جاؤ؟لوگ تو بدلے میں فوراً دعوت کی امید باندھ لیتے ہیں۔
حائقہ: امی جان! کل ہماری گڑیا کی شادی ہے۔سب سہیلیوں کو بلایا ہے۔
حمدہ: اچھا سا کھانا بنائیے گا،زردہ پلاؤ
عائشہ: اے لو، ایک سے بڑھ کر ایک نمونے ہیں اس گھر میں ماشاءاللہ
حامد: کیوں بچیوں کا دل توڑتی ہو؟ گڑیا کی شادی ہی تو ہے، تھوڑا بہت بنا دینا۔
عائشہ: جس گڑیا کی شادی کر کے چھ ماہ پہلے رخصت کیا ہے، اس کی تو فکر کریں۔
حامد (بدستور اخبار پڑھتے ہوئے) کیوں؟ کیا ہوا؟ خوش تو ہے اپنے گھر میں۔
عائشہ: آپ کو اخبار سے فرصت ہو تو میری سنیں۔صالحہ کا اپنی سسرال میں پہلا رمضان ہے، پورے سمدھیانے کو افطاری پر نہ بلایا تو وہ لوگ کیا کہیں گے؟
حامد: (غصے سے اخبار پٹختے ہوئے) حد ہو گئی، یہ لوگ ہر بات پہ ہمیں ہی کیوں کہتے ہیں؟
عائشہ: اس لیے کہ اوپر اور نیچے والے طبقے کو ان باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا مگر ہمیں پڑتا ہے۔ سفید پوشی کا یہ بھرم بھی جاتا رہے تو پیچھے کیا بچتا ہے؟
حامد: اتنے لمبے چوڑے سمدھیانے کی افطاری آسان کام ہے کیا؟ کہاں ڈاکہ ڈالوں؟
عائشہ: سسرال میں بیٹی کی عزت کا معاملہ ہے، ناک کٹ جائے گی۔
حامد: یہ کیسی ناک ہے جو بات بات پر کٹنے مرنے کے لیے تیار رہتی ہے۔ مجھ سے نہیں ہو گا،کہہ دیا بس۔
عائشہ: اجی کیسی باتیں کرتے ہیں؟ بیٹی کو سو سو طعنے سننا پڑیں گے، وہ لوگ کہیں گے کن کنگلوں سے واسطہ پڑا ہے۔
حامد: مجھے بتاؤ کیا کروں، اس ہوشربا گرانی نے پاگل کر رکھا ہے۔اپنے آپ کو گروی رکھ دوں کیا؟
عائشہ: آپ کی پریشانی سمجھتی ہوں، سب جمع پونجی بیٹی کی شادی پر اٹھ گئی مگر یہ کام بھی تو ضروری ہے۔
(دروازے کی گھنٹی بجتی ہے)
حامد: طحہٰ دیکھو باہر کون ہے۔
( طحہ’ جاتا ہے اور کپڑے سے ڈھکی ٹرے اٹھائے خوشی خوشی واپس آتا ہے)
طحہ’ : میری دعا قبول ہو گئی۔ بیگ صاحب کے ہاں سے افطاری آئی ہے۔ فروٹ چاٹ اور دہی بڑے بھی ہیں۔
(دونوں بچیاں بھی لپکتی ہیں)
عائشہ: زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں۔ جاؤ یہ سب اپنے برتنوں میں نکال کر اسی طرح قریشی صاحب کے ہاں دے آؤ۔ایک گھر تو نپٹے۔
حائقہ اور حمدہ: (بیک زبان ہو کر) نہیں ہم کھائیں گے۔
عائشہ: جاؤ اپنا ہوم ورک کرو، پھر کسی دن کھا لینا۔ ہم تو اس دفعہ نگوڑی مہنگائی کے ہاتھوں مسجد میں بھی جیسے تیسے کر کے ایک وقت کا کھانا بھیجتے ہیں۔ پڑوسیوں کے ہاں نہ بھیجا تو وہ لوگ کیا کہیں گے؟
(طحہ’ پاؤں پٹختا ہوا باورچی خانے میں چلا جاتا ہے، لڑکیاں کھیل میں لگ جاتی ہیں)
حامد: بچوں کا دل ہی رکھ لیتیں، میں پتہ نہیں کیسے سینے پر پتھر رکھ کر یہ سب دیکھتا ہوں۔
عائشہ: تو کچھ کریں نا، دفتر سے لون لے لیں، کسی دوست سے ادھار مانگ لیں۔
حامد: سب کر کے دیکھ لیا مگر بات نہیں بنی۔دوست بھی تو میرے جیسے حالات سے گزر رہے ہیں۔
( طحہ’ ٹرے لیے آتا ہے)
طحہ’ : تو پھر میں یہ سب قریشی انکل کے گھر دے آؤں؟
عائشہ: (پچکارتے ہوئے) ہاں ہاں میرا بچہ، سلائی کے چار پیسے آنے دے میں اپنے لعل کی سب فرمائشیں پوری کر دوں گی۔
طحہ’ :(روہانسا ہو کر جاتے ہوئے) ہر دفعہ آپ ایسے ہی کہتی ہیں مگر۔۔۔۔۔
حائقہ: امی جان کل گڑیا کی شادی پر ہم نئے کپڑے پہنیں گی۔
حمدہ: میں تو بجیا جیسا لہنگا پہنوں گی۔
عائشہ: افف، یہ دونوں لڑکیاں تو جان کو آ گئی ہیں۔ آرام سے بیٹھو، اس دفعہ تو عید پر بھی نئے کپڑوں کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔
حامد: مت جھڑکا کرو انہیں، یہ تو آنگن کی چڑیاں ہیں،ایک دن اڑ جائیں گی۔
عائشہ: اتنی آسانی سے نہیں اڑنے کی، انہیں اڑاتے ہوئے تو ہمارے ہوش اڑ جائیں گے۔
(طحہ’ واپس آ جاتا ہے)
طحہ’ : آنٹی شکریہ ادا کر رہی تھیں اور سلام بھی کہا ہے۔
عائشہ: و علیکم السلام( شوہر کی طرف متوجہ ہو کر) سنیے
حامد: اب اور کتنا سنائیں گی؟
عائشہ: میرا وہ سونے کا کنگن کتنے کا ہو گا جو آپ نے مجھے منہ دکھائی میں دیا تھا؟
حامد: لاحول ولاقوۃ، یعنی اب میں اسے بیچ کر تمہیں منہ دکھانے کے قابل بھی نہ رہوں۔ایسا نہیں ہو گا۔وہ کنگن تمہارے سہاگ کی نشانی ہے، میں مر نہیں گیا ابھی۔
عائشہ:آئے ہائے مریں آپ کے دشمن، کوئی خیر کا کلمہ منہ سے نکالیے۔ایسی چیزیں مشکل وقت میں کام آنے کے لیے ہی تو ہوتی ہیں۔اللہ پاک آپ کو سلامت رکھے، کنگن نیا بن جائے گا۔
حامد: جی ہاں، میں تو سلامت ہی ہوں مگر تمہارا سارا زیور سلامت نہیں رہا۔ ایسا نہیں ہو گا اس دفعہ۔ یہ آخری کنگن ہی تو بچا ہے تمہارے پاس۔
(دروازے کی گھنٹی بجتی ہے، طحہ’ جاتا ہے اور ایک ٹرے کے ساتھ ہنستا ہوا واپس آتا ہے)
طحہ’ : امی جان اس افطاری پہ میرا ہی نام لکھا ہوا ہے۔ جو افطاری میں قریشی انکل کے ہاں دے کر آیا تھا وہی نعیم انکل کے ہاں سے ہوتے ہم تک واپس پہنچ گئی ہے۔ فروٹ چاٹ پر سجائی ہوئی میری تینوں کھجوریں جوں کی توں رکھی ہوئی ہیں۔
عائشہ: اے لو،یہاں سب کا حال ہمارے جیسا ہے۔
(حامد کے موبائل پر کال آتی ہے، حامد سنتا ہے، چہرے سے فکر مندی کے آثار نمایاں ہیں)
حامد:(عائشہ سے) اپنا کنگن لانا ذرا، دیکھوں کتنے میں نکل جائے گا۔
عائشہ:خیر تو ہے؟ کس کا فون تھا؟
حامد: بڑی آپا اپنے پانچ بچوں سمیت رمضان گزارنے کل ہمارے ہاں آ رہی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: اس مکالمے کے تمام کردار و واقعات فرضی ہیں، کسی قسم کی مماثلت کو محض اتفاق سمجھا جائے۔
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ثقیل اتنی کہاں گفتگو محبت کی
غریب خانہ
ایک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونق
وجہِ تسکینِ جاں،سرورِ دو جہاں
میاں محمد بخش (1830 تا 1907)
حضرت بابا بُلھے شاہ (1680 تا 1757)
حضرت خواجہ غلام فرید (1845 تا 1901)
مادھو لال حسین (1538 تا 1599)
حضرت سخی سلطان باھو (1630 تا 1691)
حضرت فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ (1173 تا 1266)

اشتہارات