لَوحِ قسمت پر مِلے کندہ کوئی

لَوحِ قسمت پر مِلے کندہ کوئی

حاضری کا خُوشنما مُثردہ کوئی

 

دَشتِ بطحا میں کرے مجھ سا گدا

خوش نصیبی کا ادا سجدہ کوئی

 

سارا عالم نور سے بھرنے لگا

اُن کے رُخ سے اُٹھ گیا پردہ کوئی

 

آپ جیسا دو جہاں میں کون ہے؟

جو گیا ہو عرش پر بندہ کوئی

 

اے مِرے ساقی! اِدھر بھی اک نظر

آبِ کوثر کا مِلے بادہ کوئی

 

دیکھنے میں آپ کیسے ہیں حضور!

کھول دے یہ خُوشنما عُقدہ کوئی

 

اُن کے قدموں میں مجھے بھی لے چلے

عِشق کی معراج کا جادہ کوئی

 

آپ کی مِدحت کرے گا ہر گھڑی

کر رہا ہے آپ سے وعدہ کوئی

 

خوش نصیبی ہے مدینے میں اگر

خاک روبی کا مِلے عہدہ کوئی

 

اے رضاؔ محفل میں اُن کی شان میں

نعتیہ پڑھ دو غزل عُمدہ کوئی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

عطا ہوتے ہیں بحر و بر گدا دل سے اگر مانگے
جو ان کے عشق میں آئینہ فام ہو جائے
شاعری کے ماتھے پر ان کی بات مہکے گی
مدینہ دیکھ کر دل کو بڑی تسکین ہووے ہے
پڑا ہوں سرِ سنگِ در مورے آقا
آقاﷺ کی محبت ہی مرے پیشِ نظر ہو
جب بھی پہنچا ہوں آقاؐ کے دربار تک
روشن ہیں دو جہاں میں بدرالدجی کے ہاتھ
قمر کو شقِ قمر کا حسین داغ ملا
میرے دل میں ہے یاد محمد ﷺ میرے ہونٹوں پہ ذکر مدینہ