اردوئے معلیٰ

Search

لپٹ کر سنگِ در سے خوب رو لوں

سیاہی قلب کی اشکوں سے دھو لوں

 

بڑا دل کش مدینے کا ہے منظر

یہی منظر نگاہوں میں سمو لوں

 

حذر ہے در بدر کی ٹھوکروں سے

محمد مصطفیٰ کے در کا ہو لوں

 

زیارت خواب میں ہو جائے شاید

اسی امید پر کچھ دیر سو لوں

 

ثنا خواں ہوں شہِ کون و مکاں کا

جو امرت نعت کا کانوں میں گھولوں

 

ادب خاموش رکھتا ہے زباں کو

کہیں اعمال سے نا ہاتھ دھو لوں

 

بڑے ارمان ہیں اشفاقؔ دل میں

میں کشتِ نعت میں کچھ لفظ بولوں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ