لڑکھڑاتے ہوئے قدموں کو سنبھالا جائے

لڑکھڑاتے ہوئے قدموں کو سنبھالا جائے

وہ جو سینے میں دھڑکتا ہے، نکالا جائے

 

ہجر کے پھول تسلسل سے کھلے جاتے ہیں

عشق کی شاخ کو اب کاٹ نہ ڈالا جائے؟

 

فصلِ گل ہے تو کوئی جشن منانا لازم

دل کے شیشے کو سرِ بزم اچھالا جائے

 

کوئی منطق ، کوئی تاویل ، بہانہ کوئی

جس سے دنیا کے سوالات کوٹالا جائے

 

میرے امکان جلا دے کہ رہِ ہجرت میں

تیرے ہمراہ ذرا دور اجالا جائے

 

سنگِ وحشت سے بھی اصنام تراشے جائیں

آب اور گِل سے کسی روپ کو ڈھالا جائے

 

اس قدر صدق سے برباد بھی کیوں ہو کوئی

حادثہ اتنے تکلف سے نہ پالا جائے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اتنا ہی میرا کام تھا ، بستی سے جاؤں میں
لب پہ شکوہ بھی نہیں، آنکھ میں آنسو بھی نہیں
مفلوج کئے پہلے مرے ہاتھ مکمل
ممتاز شاعر شہزادؔ احمد کا یومِ وفات
بے دلی
آئینہِ خیال شکستہ ضرور ہے
میں مر مٹا تو وہ سمجھا یہ انتہا تھی مری
ضبط کے امتحان سے نکلا
بجائے کوئی شہنائی مجھے اچھا نہیں لگتا
اشکِ کم ظرف مرا ضبط ڈبو کر نکلا