لکُّھوں میں نعتِ شاہِ دو عالم ﷺ بہر زماں

لکُّھوں میں نعتِ شاہِ دو عالم ﷺ بہر زماں

ہو سر بلند ان کا ہی پرچم بہر زماں

 

پیشِ نظر اُنہی کی ہو سیرت قدم قدم

یوں جادۂ وفا پہ چلیں ہم بہر زماں

 

اے داعیانِ حُبِ نبی ﷺ ہوشیار باش!

اُلفت یہی رہی ہے مقدم بہر زماں

 

آسودگیٔ روح بھی تسکینِ قلب بھی!

بس آپ ﷺ ہی نے کی ہے فراہم بہرزماں

 

اُن کے سکوت اور تکلم کی ہر ادا

بخشے گی زخمِ روح کو مرہم بہر زماں

 

وہ ناظرِ مراحلِ تخلیقِ کائنات

وہ کنزِ مخفیہً کے بھی محرم بہر زماں

 

جو شخص اُن ﷺ کے نقشِ قدم پر چلا عزیزؔ

ٹھہری اسی کی ذات مکرم بہر زماں!

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

احسان ہے خدائے علیم و خبیر کا
میں رہوں نغمہ طرازِ شہِ دیں حینِ حیات
کم ہے محیطِ فکر اور تنگ ہے ظرفِ آگہی
ہے کم جتنا بھی نازاں اس پہ ہو امت محمدؐ کی
میدانِ محمدت میں ہے لازم ادب کا پاس
موجبِ صد خیر و برکت باعثِ تسکینِ جان
نہ آسمان کو یوں سر کشیدہ ہونا تھا
چمنِ طیبہ میں سنبل جو سنوارے گیسو
وہ سرور کشور رسالت جو عرش پر جلوہ گر ہوئے تھے
وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا